Font by Mehr Nastaliq Web

گر محمد کے غلاموں میں مرا نام آئے

منظر نقوی

گر محمد کے غلاموں میں مرا نام آئے

منظر نقوی

MORE BYمنظر نقوی

    گر محمد کے غلاموں میں مرا نام آئے

    حشر کے روز یہ اعزاز میرے کام آئے

    حوض کوثر کی تمنا تو بس اتنی ہے مجھے

    دستِ آقا سے میرے واسطے اک جام آئے

    لب پہ رہتا ہے جو ہر وقت سلام اور درود

    میرے ہونٹوں پر کسی اور کا کیوں نام آئے

    آپ کا نام ہے وہ نام کہ جس سے ہر دم

    دل کو تسکین ملے، روح کو آرام آئے

    آپ کے ادنیٰ غلاموں کی تمنا ہے حضور

    کاش ان کو بھی حضور آپ کا پیغام آئے

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    بولیے