وہ کون فخر رسل فخر انبیائے کل
وہ کون فخر رسل فخر انبیائے کل
وہ کون سرورِ کونین احمد مختار
امام ہر دوجہاں زیب و زینتِ دارین
بہارِ کون و مکان نکہتِ گل و گلزار
وہ جس کی ذاتِ حدوث کی برزخ ہے
وہ جس سے ممکن و واجب میں ربط کا اظہار
وہ وجہِ عزت تخلیق و حاصلِ خلقت
وہ اصل خلق خلائق کا سرور و سردار
وہ جس کے دم سے ہدایت کی روشنی پھیلی
جہاں سے دورِ ضلالت کے ہو گئے آثار
وہ جس کی دعوت وتبلیغ کا اثریہ ہوا
سکھائی خلق کی تہذیب و خلق کے اطوار
صلاحِ نیک سے مہر و کرم سے لے کر کام
زمانے بھر کے بدّووں کو بنایا نیکو کار
اور اس نے روحِ مساوات و حریت پھونکی
غلام اس کی اعانت سے ہو گئے احرار
وہ جس نے مٹا کے بدعات جاہلیت کے
بتائے نیک عمل نیک کام نیک اطوار
وہ جس نے قیصر و کسریٰ کے ملک چھین لیے
دکھا کے معجزہ صدق و عدل کے ہتھیار
سبق سیاست ملکی کا یہ عمل سے دیا
کہ پہلے رام کیا دشمنوں کو کر کے پیار
جو قتل کرنے کو آئے شہید بن کے گئے
جو سر اٹھا کے چلے ہو گئے وہ خدمت گار
نیامِ قہر سے تیغِ جلال بھی نکلی
مگر صلاح جب اس کے بغیر تھی دشوار
خدا کی عزت و عظمت کی راہ میداں میں
نہ ہو سکے کبھی حائل جبل و دشت وبخار
خدائے پاک کی توحید کی اشاعت سے
اسے نہ روک سکی دہر کے قوائے کبار
غلام اس کے ہوئے شاہ، شاہ اس کے غلام
وہ بوریے پہ رہا تخت بخش عرش و قار
وہ بیکسوں کے سہارا وہ بے بسوں کی امید
یتیم وہ بیوہ مظلوم کا وہ جانب دار
وہ جانِ رحمت و شانِ کرم کی بوند
وہ اپنی امتِ بیکس کا مونس و غم خوار
وہ رو نے والا گنہگاروں کے لیے شب بھر
وہ جس کی بخششِ امت دعا تھی لیل و نہار
وہ عفو و حلم و کرم جس کا عام شیوہ تھا
اسی کا ایک گنگہار میں بھی ہوں بیمار
شفائے روح و جسد کا خدا سے طالب ہوں
بعزِ وجہِ محمد والہ الا طہار
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.