جنابِ مصطفیٰ وجہ وجود انسی و جانی
دلچسپ معلومات
زیرِ نظر کلام خواجہ نور محمد چشتی مہاروی کے عرسِ مقدس کے موقع پر بتاریخ 9 مئی 1935ء، محلہ پیپلی کاٹیان، جئے پور میں منعقد ہونے والے ایک طرحی مشاعرے میں پیش کیا گیا، اس مشاعرے کے لیے مصرعِ طرح "بزمِ اقدس ہو کے کر لو قلبِ نورانی" مقرر کیا گیا تھا، بعد ازاں اس مشاعرے میں شریک شعرا کے تمام کلام کو "مظہرِ معرفت" کے آخری حصہ میں شامل کیا گیا۔
جنابِ مصطفیٰ وجہ وجود انسی و جانی
چراغ کعبہ شمع طور نور عرش سبحانی
قریشی ہاشمی و یثربی مکی و عدنانی
بڑی نسبت تو سب سے یہ ہے تم ہو خاص رحمانی
غرض ہے ما عرفنا ہے بیانِ عجزا نسانی
تری ہستی ہے ورنہ شاہبازِ اوج عرفانی
حروف خطِ قسمت برقِ ایمن کی طرف چمکیں
جو کوئی نقشِ پا پر تیرے رکھ دے اپنی پیشانی
زمین و آساں جلوے سے ترے اس طرح روشن
خدا کے نور سے عرشِ منور جیسے نورانی
شبِ معراج ما زاغ البصر کی نصِ محکم سے
خدا بینی تری ثابت ہے واضح ہو خدا دانی
نظر افروز عالم گر نہ ہو نور رخ احمد
تو ہو ہر پردۂ چشم بشر جلباب ظلمانی
سنانے مژدۂ آمد ترا دنیا میں آئے تھے
جناب ابن مریم حضرت موسیٰ عمرانی
حرم بت خانہ صحرا بحر دریا بن گیا وادی
بدل دی آتے ہی تو نے تو شکل عالمِ فانی
مسیحا نے جو مردوں کو جلایا تو عجب کیا ہے
بہائم میں عرب کے تونے پھونکی روح انسانی
ابھی چرخ بریں سے حضرت عیسیٰ اتر آئیں
جو ان کو ہاتھ آجائے در اقدس کی دربانی
اگر نامِ حبیب کبریا نقشِ نگیں ہوتا
تو گم ہرگز نہ ہونی مہرِ انگشت سلیمانی
مجھے حاصل ہے لطفِ خاص دردِ عشق احمد میں
قیامت تک رہے اللہ یہ میری گر اں جانی
بیانِ نعت احمد کے لیے اللہ نے اطہرؔ
ودیعت میری فطرت میں کیا حسن سخن دانی
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.