زبانِ خلق پر ہے ہر نفس چرچہ محمد کا
زبانِ خلق پر ہے ہر نفس چرچہ محمد کا
خدا ہی جانتا ہے مرتبہ ہے کیا محمد کا
خدا سے پھر گیا جو پھر گیا ان کی محبت سے
خدا کا ہوگیا جو ہوگیا بندہ محمدکا
حرم ہو دیر ہو یا ہو کلیسا کوئی منزل ہو
ہر اک منزل سے مل سکتا ہے دروازہ محمد کا
یہی منشائے قدرت ہے یہی ایماں ہمارا ہے
خدا کے بعد ہے سب سے بڑا درجہ محمد کا
نوازا اپنی رحمت سے ہمیشہ اہلِ حاجت کو
خلوصِ خاص سے لبریز ہے سینہ محمد کا
نظر آیا ہے طوفانِ حوادث دامنِ ساحل
زباں پر نامِ نامی جس گھڑی آیا محمد کا
جہاں کا جو بھی جلوہ ہے وہ ہے افسانۂ جلوہ
حقیقت در حقیقت مستؔ ہے جلوہ محمد کا
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.