Font by Mehr Nastaliq Web

جو تو ہی ہم کو نہ پوچھے تو کون پوچھے گا

مولانا قاسم نانوتوی

جو تو ہی ہم کو نہ پوچھے تو کون پوچھے گا

مولانا قاسم نانوتوی

MORE BYمولانا قاسم نانوتوی

    جو تو ہی ہم کو نہ پوچھے تو کون پوچھے گا

    بنے گا کون ہمارا ترے سوا غم خوار

    امیدیں لاکھوں ہیں لیکن بڑی امید ہے یہ

    کہ ہو سگانِ مدینہ میں کاش میرا شمار

    اڑا کے باد مری مشتِ خاک کو پسِ مرگ

    کرے حضور کے روضہ کے آس پاس نثار

    ولے یہ رتبہ کہاں مشتِ خاکِ قاسم کا

    کہ جائے کوچۂ اطہر میں تیرے بن کے غبار

    دل شکستہ ضروری ہے جوشِ رحمت کو

    گرے ہے باز کہیں! جب تلک نہ دیکھے شکار

    الٰہی! اس پر اور اس کی تمام آل پہ بھیج

    وہ رحمتیں کہ عد کر سکے نہ ان کو شمار

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    بولیے