جو تو ہی ہم کو نہ پوچھے تو کون پوچھے گا
جو تو ہی ہم کو نہ پوچھے تو کون پوچھے گا
بنے گا کون ہمارا ترے سوا غم خوار
امیدیں لاکھوں ہیں لیکن بڑی امید ہے یہ
کہ ہو سگانِ مدینہ میں کاش میرا شمار
اڑا کے باد مری مشتِ خاک کو پسِ مرگ
کرے حضور کے روضہ کے آس پاس نثار
ولے یہ رتبہ کہاں مشتِ خاکِ قاسم کا
کہ جائے کوچۂ اطہر میں تیرے بن کے غبار
دل شکستہ ضروری ہے جوشِ رحمت کو
گرے ہے باز کہیں! جب تلک نہ دیکھے شکار
الٰہی! اس پر اور اس کی تمام آل پہ بھیج
وہ رحمتیں کہ عد کر سکے نہ ان کو شمار
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.