اب یہی ہے وظیفہ مرا سرورِ انبیا مصطفیٰ
اب یہی ہے وظیفہ مرا سرورِ انبیا مصطفیٰ
آپ کی یاد ہے بندگی آپ کا ذکر ذکرِ خدا
آپ ہیں مظہرِ کبریا آپ رحمت کی ٹھنڈی ہوا
آپ کا نور اے مصطفیٰ مرحبا مرحبا مرحبا
ذرہ ذرہ سے آئی صدا سرورِ انبیا مصفیٰ
آپ ہی سے ہے روشن سحر آپ ذرہ کو کر دیں گہر
شمس کی روشنی آپ سے آپ کی خاک پا ہے قمر
آپ ہیں نورِ ذاتِ خدا سرورِ انبیا مصطفیٰ
آپ کا جب اشارہ ہوا پتھروں نے بھی کلمہ پڑھا
آپ کے سامنے یا نبی سب درختوں نے سجدہ کیا
آپ ہی ہیں حبیبِ خدا سرور انبیا مصطفیٰ
آپ کو جو ستاتے رہے ان پہ رحمت لٹاتے رہے
اہل مکہ کے ظلم و ستم آپ ہنس کر بھلاتے رہے
آپ نے بخشی سب کی خطا سرورِ انبیا مصطفیٰ
یا نبی اب کرم کیجیے اپنے در پر بلا لیجیے
ایک دن پہنچے طیبہ مینکؔ اس کی قسمت جگا دیجیے
ہے بلند آپ کا مرتبہ سرورِ انبیا مصطفیٰ
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.