Font by Mehr Nastaliq Web

ان سے عقیدت کا یہ تقاضا کل بھی تھا اور آج بھی ہے

مہر وجدانی

ان سے عقیدت کا یہ تقاضا کل بھی تھا اور آج بھی ہے

مہر وجدانی

MORE BYمہر وجدانی

    ان سے عقیدت کا یہ تقاضا کل بھی تھا اور آج بھی ہے

    ان کے نام پہ جینا مرنا کل بھی تھا اور آج بھی ہے

    وہ کہتا ہے صرف بشر تھے میں کہتا ہوں نور بھی ہیں

    اس کا گماں اور میرا دعویٰ کل بھی تھا اور آج بھی ہے

    میں تو رحمت بھیجتا ہوں تم ان پر درود سلام پڑھو

    قرآں میں یہ حکم خدا کا کل بھی تھا اور آج بھی ہے

    ان کی خاطر دنیا بنی ہے بعد خدا ہے ان کی ہستی

    اہلِ سنت کا یہ عقیدہ کل بھی تھا اور آج بھی ہے

    ان کی شفارش اور شفاعت کام آتی ہے کام آئے گی

    ان سے ربط اور ان کا وسیلہ کل بھی تھا اور آج بھی ہے

    جب سے میں نے ہوش سنبھالا ان سے محبت کرتا ہوں

    میرے دل میں عشق کا جذبہ کل بھی تھا اور آج بھی ہے

    ان کے نور سے کون و مکاں کو خالق نے تخلیق کیا

    ان کی ضیا سے مہرؔ کا جلوہ کل بھی تھا اور آج بھی تھا

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    بولیے