دیکھ کر عرشِ بریں پر جلوۂ دیدارِ حق
دیکھ کر عرشِ بریں پر جلوۂ دیدارِ حق
تو سراپا بن گیا آئینۂ انوارِ حق
مظہرِ انوارِ ربانی تجھے کہنا بجا
پیکرِ آیاتِ قرآنی تجھے کہنا بجا
تجھ کو صدرِ مجلسِ توحید کہنا چاہیے
معرفت کے نور کا خورشید کہنا چاہیے
جسم خاکی تھا مگر تھی روح نورانی تری
تھی حریفِ طور سینا جلوہ سامانی تری
کون تھا خیرالبشر خیرالبشر تو ہی تو تھا
جس کو تھی سب کی خبر وہ با خبر تو ہی تو تھا
سب سے پہلے تو نے سمجھا آدمی کو آدمی
ایک تھی تیری نظر میں بندگی و خواجگی
بے بسوں کی بے نواؤں کی زباں تو ہی تو تھا
درد مند و غم گسارِ بے کساں تو ہی تو تھا
روح انسانی کی تھی منظور تجھ کو شست و شو
سر بکف ہو کر کہا حرفِ صداقت کوبکو
ہر قدم اٹھتا تھا اک صدق و صفا کی راہ میں
رہرو بے باک تھا تو ہی خدا کی راہ میں
تلخیِ گفتارِ حق سے لوگ بدظن بھی ہوئے
جاہلِ مطلق تھے جتنے تیرے دشمن بھی ہوئے
بارہا گلیوں میں پتھر تجھ پہ برسائے گئے
تیرے اک اک گام پر سو دام پھیلائے گئے
تو کہ تھا خلق مجسم پھول برساتا رہا
گمر ہانِ راہِ حق کو راہ پر لاتا رہا
تو نے ہر دشنام کو ہنس کر گوارا کر لیا
راہِ حق میں صبر کو دل کا سہارا کر لیا
عام چرچے تھے تری شیرینی گفتار کے
ہوگئے دشمن بھی قائل رفعتِ کردار کے
راست گفتاری نے آخر یہ اثر پیدا کیا
ہر منافق کے بھی دل میں تو نے گھر پیدا کیا
تو مبلغ تھا ہمیشہ نیکی اعمال کا
خیر کے اقوال کا اور خیر کے افعال کا
عاصیوں پر تیری بخشش لطف ساماں ہوگئی
رحمتِ الفقر و فخری پھر سے ارزاں ہو گئی
لوگ بھولے ہیں ترے درسِ روا داری کو حیف
اور ہوا دیتے ہیں جذباتِ دل آزاری کو حیف
ان کو پھر درسِ محبت کی ضرورت ہے رسول
ان کو پھر رشد و ہدایت کی ضرورت ہے رسول
اے محبت کے پیمبر رہبرِ دنیا و دیں
تیرے قدموں پر عقیدت سے جھکاتا ہو جبیں
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.