نعت کہنے کی جہاں دل میں تمنا دیکھی
نعت کہنے کی جہاں دل میں تمنا دیکھی
وہیں جذبات میں تحریک بھی پیدا دیکھی
تجھے دیکھا جو تصور میں نبی اکرم
تیرے جلووں سے خجل برقِ تجلا دیکھی
گل و گلزار میں ہے تیری ہی زلفوں کی مہک
ذرے ذرے میں ترے حسن کی دنیا دیکھی
یوسف و عیسیٰ و موسیٰ بھی نہ تھے تیری نظیر
تجھ سے بڑھ کر نہ کوئی ہستی رعنا دیکھی
جاہلیت کے زمانے میں رہِ مولیٰ پر
اک تری ذاتِ مطہر تنِ تنہا دیکھی
سامنے تیرے ہی اے راہبر راہِ ہدیٰ
اہل باطل ہی کی اک فوج صف آرا دیکھی
تو نے انسان کی تعظیم سکھائی ہم کو
قدر انسان کی اک تجھ سے دوبالا دیکھی
آج جس قسم کے ہنگامے ہیں دنیا میں بپا
تیری تعلیم ہی ان سب کا مداوا دیکھی
تیری تعظیم ہے تکریم ہے بر روئے زمیں
تیری توقیر سر عرشِ معلیٰ دیکھی
نعت میں صورت و سیرت ہے نبی کی مغمومؔ
اسی آئینے میں اک ہستی یکتا دیکھی
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.