سرورِ عالم شہِ ذیشاں نظر بر حالِ من
سرورِ عالم شہِ ذیشاں نظر بر حالِ من
مشکلیں کیجے مری آساں نظر بر حالِ من
نخلِ ایماں کو مرے آقا عطا ہو تازگی
اس پہ برسے لطف کا نیساں نظر بر حالِ من
اے مرے سرکار میری التجا مقبول ہو
دیکھ لوں میں بھی رخِ تاباں نظر بر حالِ من
فرقتِ طیبہ سے آقا دل میرا غمگین ہے
درد کا ہو اب مرے درماں نظر بر حالِ من
نفس و شیطاں کی ہلاکت خیزیاں بڑھنے لگیں
مجھ پہ غالب ہو گئے عصیاں نظر بر حالِ من
پھر مدینے میں عطا ہو باریابی کا شرف
پھر یہ پورا ہو مرا ارماں نظر بر حالِ من
واسطہ حسنین کا جو پھول ہیں سرکار کے
کیجیے گا مثلِ گل خنداں نظر بر حالِ من
اشک باری اور غمِ امت کا آقا واسطہ
حشر میں فرمائیے شاداں نظر بر حالِ من
اپنی نظروں میں سدا مرزاؔ کو رکھیے گا حضور
آپ ہی کا ہے یہ مدح خواں نظر بر حالِ من
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.