Font by Mehr Nastaliq Web

یاد میں ان کی جو گزرے زندگانی اور ہے

مرزا جاوید بیگ

یاد میں ان کی جو گزرے زندگانی اور ہے

مرزا جاوید بیگ

MORE BYمرزا جاوید بیگ

    یاد میں ان کی جو گزرے زندگانی اور ہے

    دین کے جو کام آئے وہ جوانی اور ہے

    ہم کو ہے تسلیم عظمت آبِ زم زم کی مگر

    انگلیوں سے ان کی جو نکلا وہ پانی اور ہے

    ہے شبِ معراج کا یہ طور سے اب تک خطاب

    لن ترانی اور لطفِ من الرانی اور ہے

    صرف ان سے تو سلامِ شوق کہنا اے صبا

    جو دلِ مضطر پہ گزری وہ کہانی اور ہے

    ایک بار آقا کے روضے پر پہنچ جانے تو دو

    اس دلِ بے تاب میں کچھ ہم نے ٹھانی اور ہے

    موت آئے جالیوں کے روبرو مجھ کو اگر

    پھر ملے گی جو حیات جاودانی اور ہے

    فاتحیں آئے بڑے اور حکمراں کتنے ہوئے

    فاتحِ مکہ نے کی جو حکمرانی اور ہے

    غیر کی وضع و تمدن پر فدا ہونا نہیں

    اے غلامِ مصطفیٰ تیری نشانی اور ہے

    دھوم آمد کی مچا کر آج مرزاؔ قادری

    نجد کے ایوان میں بجلی گرانی اور ہے

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    بولیے