نور والے حضور نورانی
نور والے حضور نورانی
ساتھ لائے ہیں نور نورانی
ظلمتیں دور ہوگئیں ساری
خوب ان کا ظہور نورانی
قلب میں چاہ سنگِ در کی ہے
ہے تو کعبہ ضرور نورانی
روئے سرکار گر نظر آئے
پائے گا دل سرور نورانی
جو حرم کی فضا میں اڑتے ہیں
وہ سبھی ہیں طیور نورانی
خاکِ پائے حضور کا صدقہ
ہیں جو غلمان و حور نورانی
فرش تا عرش فیض ہے جاری
ان سے نزدیک و دور نورانی
لاج رہ جائے میرا نامہ ہو
شاہِ یومِ نشور نورانی
داغِ عصیاں مٹا کے مرزاؔ کے
اس کو کیجے حضور نورانی
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.