مدینے کا سفر ہو اور میں ہوں
مدینے کا سفر ہو اور میں ہوں
مقدر اوج پر ہو اور میں ہوں
چلوں اے کاش میں شوق و ادب سے
میسر چشمِ تر ہو اور میں ہوں
اذاں رس گھول دے کانوں میں میرے
مدینے کی سحر ہو اور میں ہوں
تمنا ہے شہا یوں موت آئے
تمہارا سنگِ در ہو اور میں ہوں
یوں ہی گزرے یہ میری زندگانی
شہا طیبہ نگر ہو اور میں ہوں
نہ چھوٹے ہاتھ سے دامانِ مرشد
سدا بس یہ ڈگر ہو اور میں ہوں
ثنائے رحمتِ کونین مرزاؔ
وظیفہ عمر بھر ہو اور میں ہوں
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.