سرکارِ دو عالم کا اگر در نہیں دیکھا
سرکارِ دو عالم کا اگر در نہیں دیکھا
گویا کہ حسیں کوئی بھی منظر نہیں دیکھا
کرتا ہے مواجہ پہ جو معروض نبی سے
منگتوں میں کوئی ایسا تونگر نہیں دیکھا
سلطان ہو یا کوئی گدا شاہ پہ کرتے
کس کس کو دل و جان نچھاور نہیں دیکھا
کہتے ہیں یہ جبریلِ امیں ان سے بصد شوق
کونین میں سرکار کا ہمسر نہیں دیکھا
دیتا ہے اماں خون کے پیاسوں کو جو اپنے
جز شاہ کے ایسا کوئی رہبر نہیں دیکھا
دم توڑ دے جو شاہ کی دہلیز پہ آ کر
اس جیسا مقدر کا سکندر نہیں دیکھا
امت کی جو بخشش کے لیے محوِ دعا ہے
آقا کے سوا کوئی بھی یاور نہیں دیکھا
ہیں مالکِ کونین چٹائی کا ہے بستر
ان جیسا بشر کوئی بھی سرور نہیں دیکھا
مرزاؔ جو مدینے میں گئے ہم نے یہ جانا
کیا دیکھا اگر روضۂ انور نہیں دیکھا
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.