ہے نظر جن عاشقوں کی کوئے جاناں کی طرف
ہے نظر جن عاشقوں کی کوئے جاناں کی طرف
دیکھ سکتے ہی نہیں وہ حور و غلماں کی طرف
ہم نے مانا پاس طیبہ کا نہیں زادِ سفر
ہے نظر ان کے کرم پر نہ کے ساماں کی طرف
جب کہا ہم نے تڑپ کر یا رسول اللہ مدد
آ گئے امداد کرنے وہ پریشاں کی طرف
ٹوٹنے والا ہے دم عاصی مدد کے واسطے
دیکھتا ہے ریشۂ مسواکِ جاناں کی طرف
کر دیئے آباد آقا آپ نے اجڑے چمن
اک نظر یا مصطفیٰ اس قلبِ ویراں کی طرف
کعبے کے بدرالدجیٰ والا سلام اے بھائیو!
پڑھنا جب لے کرچلو گورِ غریباں کی طرف
موت کے جھٹکے یقیناً مجھ کو دے جائیں مزا
ہو دمِ آخر نظر جو روئے تاباں کی طرف
ہوں غلامِ مصطفیٰ سن لے ذرا شیطان تو
آنکھ ہرگز نہ اٹھانا میرے ایماں کی طرف
دل نہیں لگتا ہمارا اب کسی صورت یہاں
چلیے مرزاؔ اب مدینے کے گلستاں کی طرف
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.