Font by Mehr Nastaliq Web

ہے نظر جن عاشقوں کی کوئے جاناں کی طرف

مرزا جاوید بیگ

ہے نظر جن عاشقوں کی کوئے جاناں کی طرف

مرزا جاوید بیگ

MORE BYمرزا جاوید بیگ

    ہے نظر جن عاشقوں کی کوئے جاناں کی طرف

    دیکھ سکتے ہی نہیں وہ حور و غلماں کی طرف

    ہم نے مانا پاس طیبہ کا نہیں زادِ سفر

    ہے نظر ان کے کرم پر نہ کے ساماں کی طرف

    جب کہا ہم نے تڑپ کر یا رسول اللہ مدد

    آ گئے امداد کرنے وہ پریشاں کی طرف

    ٹوٹنے والا ہے دم عاصی مدد کے واسطے

    دیکھتا ہے ریشۂ مسواکِ جاناں کی طرف

    کر دیئے آباد آقا آپ نے اجڑے چمن

    اک نظر یا مصطفیٰ اس قلبِ ویراں کی طرف

    کعبے کے بدرالدجیٰ والا سلام اے بھائیو!

    پڑھنا جب لے کرچلو گورِ غریباں کی طرف

    موت کے جھٹکے یقیناً مجھ کو دے جائیں مزا

    ہو دمِ آخر نظر جو روئے تاباں کی طرف

    ہوں غلامِ مصطفیٰ سن لے ذرا شیطان تو

    آنکھ ہرگز نہ اٹھانا میرے ایماں کی طرف

    دل نہیں لگتا ہمارا اب کسی صورت یہاں

    چلیے مرزاؔ اب مدینے کے گلستاں کی طرف

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    بولیے