Font by Mehr Nastaliq Web

باغِ عالم میں ہے دِلکشی آپ سے

مرزا جاوید بیگ

باغِ عالم میں ہے دِلکشی آپ سے

مرزا جاوید بیگ

MORE BYمرزا جاوید بیگ

    باغِ عالم میں ہے دلکشی آپ سے

    اور پھولوں میں ہے تازگی آپ سے

    کفر کا دور تھا ظلمتیں جابجا

    ہو گئی دہر میں روشنی آپ سے

    قاسمِ نعمتِ کبریا آپ ہیں

    جو بھی دولت ملی وہ مِلی آپ سے

    رہنما سیرتِ طیبہ آپ کی

    لے رہا ہے جہاں آگہی آپ سے

    یہ زمین و زماں یہ مکین و مکاں

    ہے سبھی کی بقا یا نبی آپ سے

    اور کیا غیب ہو آپ سے کچھ نہاں

    ذاتِ رب العلیٰ نا چھپی آپ سے

    رخ کی طلعت شہا مجھ کو دکھلائیے

    رات دن یہ مری لو لگی آپ سے

    بات بگڑی ہوئی میری پل میں بنی

    دل سے فریاد جب میں نے کی آپ سے

    دم میں جب تک ہے دم نعت مرزاؔ کہے

    عرض ہے عاجزانہ یہی آپ سے

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    بولیے