ہر سمت یہ صدا ہے سرکار آ رہے ہیں
ہر سمت یہ صدا ہے سرکار آ رہے ہیں
رب کی ہوئی عطا ہے سرکار آ رہے ہیں
حور و ملک کے لب پر خوشیوں کے ہیں ترانے
تکرارِ مرحبا ہے سرکار آ رہے ہیں
ہر سمت روشنی ہے ظلمت بھی چھٹ گئی ہے
دنیا میں نورِ رب کی آمد کی اب گھڑی ہے
گھر آمنہ کا رشکِ فردوس ہوگیا ہے
کیسا شرف ملا ہے سرکار آ رہے ہیں
اے بے بسو! مبارک اے بے کسو! مبارک
نادار! بے مرادو! آفت زدو! مبارک
کرنے کرم سے شاداں راحت کا لے کے ساماں
اب خوف تم کو کیا ہے سرکار آ رہے ہیں
مکے سے جب کہ ہجرت فرما کے آئے حضرت
طیبہ کی بچیوں نے خوش ہو کے پھر نہایت
شوق و ادب سے گائے نغمات مرحبا کے
ہر لب پہ واہ وا ہے سرکار آ رہے ہیں
تانبے کی ہے زمیں بھی ہے دھوپ تیز گرمی
خورشید بھی ہے سر پر ہے پیاس بھی بلا کی
برپا ہوا ہے محشر لو پلانے جامِ کوثر
اک شور مچ گیا ہے سرکار آ رہے ہیں
محفل کو وجد آیا کیف و سرور چھایا
ہونے لگا ہے چرچا مرزاؔ کے اس سخن کا
میلاد مصطفیٰ کی پُر نور ساعتوں میں
عشاق نے پڑھا ہے سرکار آ رہے ہیں
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.