شہرِ طیبہ کی ہوا درکار ہے
شہرِ طیبہ کی ہوا درکار ہے
دردِ عصیاں کی دوا درکار ہے
مصطفیٰ خیرالوریٰ کے عشق میں
بس تڑپنے کی ادا درکار ہے
جاہ و حشمت کا نہیں طالب حضور
آپ کی الفت شہا درکار ہے
سرخروئی قبر و محشر میں مِلے
یہ عنایت یہ عطا درکار ہے
سر اٹھاتا ہے یزیدِ وقت پھر
پھر سے کوئی کربلا درکار ہے
حضرتِ فاروقِ اعظم سا ہمیں
پھر سے کوئی رہنما درکار ہے
روزِ محشر بس شفاعت آپ کی
شافعِ روزِ جزا درکار ہے
نعت لکھتا نعت میں پڑھتا رہوں
یہ شرف یا مصطفیٰ درکار ہے
شوق سے مرزاؔ کہو نعتِ نبی
مصطفیٰ کی گر رضا درکار ہے
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.