نعتِ محبوبِ خدا ہو لازمی
نعتِ محبوبِ خدا ہو لازمی
روز و شب یہ سلسلہ ہو لازمی
مدحتِ رخ کی اگر ہے آرزو
شرحِ والشمس و ضحیٰ ہو لازمی
سر بلندی چاہیے تو روبرو
سیرتِ خیرالوریٰ ہو لازمی
خاکِ طیبہ سے کرو اپنا علاج
چاہتے ہو گر شفا ہو لازمی
راحتیں ہی راحتیں مل جائیں گی
ذکر بس صلِ علیٰ ہو لازمی
لطف فرماتے ہوئے آئیں گے وہ
قلب میں غارِ حرا ہو لازمی
دستگیری کو ابھی وہ آئیں گے
شرط ہے دل سے صدا ہو لازمی
زندگی کٹ جائے گی آرام سے
پیرویٔ مصطفیٰ ہو لازمی
ہے یہی ایمان جانِ بندگی
دل میں آقا کی وِلا ہو لازمی
سرفرازی چاہیے مرزاؔ اگر
تم سے ہر اک کا بھلا ہو لازمی
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.