Font by Mehr Nastaliq Web

ٹوٹے ہوئے دلوں کے سہارے حضور ہیں

مرزا جاوید بیگ

ٹوٹے ہوئے دلوں کے سہارے حضور ہیں

مرزا جاوید بیگ

MORE BYمرزا جاوید بیگ

    ٹوٹے ہوئے دلوں کے سہارے حضور ہیں

    ہم کو تو اپنی جان سے پیارے حضور ہیں

    بے جان میں حیات کے منظر عیاں ہوئے

    فرماتے جس طرف بھی اشارے حضور ہیں

    دنیا و آخرت میں ہمیں خوف کیوں رہے

    کرنے کو اپنے وارے نیارے حضور ہیں

    یا سیدی اغثنی پکارا ہے جس گھڑی

    طوفان میں بھی دیتے کنارے حضور ہیں

    جو بھی نہیں حضور کے رب کے نہیں ہیں وہ

    ان کا خدا ہے جن کے ہمارے حضور ہیں

    کیا خوب ان کا اسوۂ پُر نور واہ وا

    ہر قوم کہہ رہی ہے ہمارے حضور ہیں

    گر چہ تمہیں ڈرائیں زمانے کی مشکلیں

    مرزاؔ نہ رکھنا خوف تمہارے حضور

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    بولیے