مرحبا وہ روضۂ سرکار اللہ غنی
مرحبا وہ روضۂ سرکار اللہ غنی
بول اٹھا جس نے کیا دیدار اللہ غنی
مسجدِ نبوی کے وہ مینار اللہ غنی
گنبدِ خضریٰ کے وہ انوار اللہ غنی
خوب صورت گلشنِ طیبہ کے سارے پھول ہیں
ان کے صحرا کے وہ دلکش خار اللہ غنی
حق نے والشمس و ضحیٰ قرآن میں فرما دیا
جگمگاتا وہ رخِ سرکار اللہ غنی
رازِ والیلِ اذا یغشیٰ ہوئے لاریب جو
مصطفیٰ کے گیسوئے خمدار اللہ غنی
لامکاں وہ پہنچ کر اک آن ہی میں آ گئے
شاہ کی معراج میں رفتار اللہ غنی
امن کا مژدہ دیا ہے خون کے پیاسوں کو بھی
ہے بلند اخلاق اور کردار اللہ غنی
یوں تو سارے ہی صحابہ شان والے ہیں مگر
حضرتِ صدیق یارِ غار اللہ غنی
ربِ سلم کی صدا نے پار ہم کو کردیا
تیغ سے تھی تیز پل کی دھار اللہ غنی
اور اک روشن غزل مرزاؔ سناو جھوم کر
خوب تھی نعتِ شہِ ابرار اللہ غنی
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.