شانِ محبوبِ رحمان کیا خوب ہے
شانِ محبوبِ رحمان کیا خوب ہے
پایا دیدارِ سبحان کیا خوب ہے
حق نے فرمایا جس کو ہے لاریب فیہ
ان پہ اترا وہ قرآن کیا خوب ہے
ان کی ہر اک ادا واہ وا واہ وا
ان کا ہر ایک فرمان کیا خوب ہے
رب نے بھیجا فرشتوں کی افواج کو
بدر میں دیکھو میدان کیا خوب ہے
مژدۂ امن جاری کیا آپ نے
خوں کے پیاسوں پہ احسان کیا خوب ہے
ان کے پہلو میں صدیق و فاروق ہیں
زیرِ گنبد شبستان کیا خوب ہے
خاک ہو جاؤں طیبہ کی میں خاک میں
ہو اگر اس کا امکان کیا خوب ہے
ان کے لطف و کرم سے بندھا قافیہ
نظمِ مرزاؔ کا عنوان کیا خوب ہے
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.