Font by Mehr Nastaliq Web

صاحِبِ شان و ذی وقار حضور

مرزا جاوید بیگ

صاحِبِ شان و ذی وقار حضور

مرزا جاوید بیگ

MORE BYمرزا جاوید بیگ

    صاحِبِ شان و ذی وقار حضور

    جو ہیں محبوبِ کردگار حضور

    غمزدوں کے ہیں غمگسار حضور

    بے قراروں کے ہیں قرار حضور

    میں گناہوں پہ شرمسار حضور

    ہے کرم آپ کا شعار حضور

    لامکاں کے مکین ہیں آقا

    عرش سے بھی گئے ہیں پار حضور

    آپ محبوبِ کبریا ٹھہرے

    جان و دل آپ پر نثار حضور

    نامداروں میں نام ہے اونچا

    تاجداروں کے تاجدار حضور

    کر دیا غیب حق تعالیٰ نے

    آپ پر سب ہی آشکار حضور

    سخت بیمار ہوں گناہوں کا

    دو شِفا بہرِ چار یار حضور

    بات اپنی بگاڑتا ہوں میں

    اور بناتے ہیں بار بار حضور

    حشر میں لاج آپ ہی رکھنا

    ہے گناہوں کا سر پہ بار حضور

    منہ خزاں کا نہ عمر بھر دیکھوں

    وہ عطا کیجیے بہار حضور

    وہ کرم کیجیے دمِ آخر

    میرے لب پر ہو بار بار حضور

    ہو نظر اپنے سب غلاموں پر

    سارے ہو جائیں دیندار حضور

    اپنے مرزاؔ پہ ہر گھڑی رکھنا

    رحمتیں اور اپنا پیار حضور

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    بولیے