نعتِ سرکار میں سناتا ہوں
نعتِ سرکار میں سناتا ہوں
اپنی تقدیر جگمگاتا ہوں
گورِ تِیرہ میں روشنی کے لیے
نعت کے دیپ میں جلاتا ہوں
بانٹتے ہیں وہ نعمتیں رب کی
صدقۂ مصطفیٰ میں کھاتا ہوں
حکم ہے نعمتوں کے چرچے کا
جشنِ میلاد یوں مناتا ہوں
یاد آتی ہے جب مدینے کی
دل میں کیف و سرور پاتا ہوں
کاش اس قول کا بنوں مصداق
تیر لگتے ہیں مسکراتا ہوں
اے غمو! نہ ڈراؤ تم مجھ کو
اپنے غمخوار کو بلاتا ہوں
دل تو مرزاؔ کبھی کا جا پہنچا
اب مدینے کو میں بھی جاتا ہوں
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.