Font by Mehr Nastaliq Web

حضور آپ کے آنے سے روشنی پھیلی

مرزا جاوید بیگ

حضور آپ کے آنے سے روشنی پھیلی

مرزا جاوید بیگ

MORE BYمرزا جاوید بیگ

    حضور آپ کے آنے سے روشنی پھیلی

    مٹی جہاں میں تھی جتنی بھی تیرگی پھیلی

    چمن میں فصلِ بہاری نے رنگ دکھلایا

    شجر بھی پھولے گلوں میں بھی تازگی پھیلی

    دبایا جاتا تھا زندہ ہی بیٹیوں کو جہاں

    عرب میں آپ سے پہلے یہ رسم تھی پھیلی

    چمن میں محوِ سماعت ہوئے سب اہلِ چمن

    کلامِ سرورِ دیں کی وہ چاشنی پھیلی

    دیا عدو کو بھی یہ فیض انت فیھم نے

    عذاب ان سے ٹلے امن و آشتی پھیلی

    بتوں نے کعبۂ اقدس میں ڈیرے ڈالے تھے

    وہ ہادی آئے تو پھر رب کی بندگی پھیلی

    مفسرین و محدث مجدد و عارف

    حضور ہی سے تو یہ علم و آگہی پھیلی

    خدا نے ذکرِ نبی کو بلندیاں بخشیں

    کہ عرش و فرش پہ خوئے ثنا گری پھیلی

    طفیلِ صاحبِ لولاک بالیقیں مرزاؔ

    اس آبِ و گل کے جہاں میں ہے زندگی پھیلی

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    بولیے