عاشق کو بھا سکے گی نہ رنگِ چمن کی بات
عاشق کو بھا سکے گی نہ رنگِ چمن کی بات
دل کا سکون ہے فقط ان کے وطن کی بات
موزوں یہاں پہ کیسے ہو درِّ عدن کی بات
اس سے کہیں بلند ہے ان کے دہن کی بات
یاقوت و لعل و نیلم و مرجان کیا کروں
دے گی مجھے تو لطف نبی کے دہن کی بات
گردِ ہلال ہالہ ستارے کِیے رہے
کیا خوب میرے شاہ کی ہے انجمن کی بات
طیبہ کی گرد کوئی چھڑک دے جو بعدِ مرگ
بڑھ جائے خاکِ جسم کی میرے کفن کی بات
عشاق ان کے ذکر سے ہیں شاد دائمی
لب پر عدو کے ہوگی ہمیشہ جلن کی بات
ان کے کرم سے گور میں محشر میں خیر ہے
حق ٹالتا ہے کب مرے شاہِ زمن کی بات
پیاسے جو خون کے تھے وہ دامن میں آ گئے
دل کش ہے کس قدر میرے شِیریں سخن کی بات
دل میں ہمارے آلِ نبی کی وِلا رہے
اور لب پہ ہمیشہ ہی رہے پنجتن کی بات
مرزاؔ جو ان کے لطف و کرم کی نظر پڑے
ہم کو لگے گی پھول سی رنج و محن کی بات
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.