تمہارے نور سے روشن زمانہ یا رسول اللہ
تمہارے نور سے روشن زمانہ یا رسول اللہ
مرے تاریک دل کو جگمگانا یا رسول اللہ
مجھے پھر اپنے روضے پر بلانا یا رسول اللہ
مدینے کے حسیں منظر دکھانا یا رسول اللہ
خدا رکھے سلامت خیر سے شہرِ مدینہ کو
غریبوں بے کسوں کا ہے ٹھکانہ یا رسول اللہ
میں دردر ٹھوکریں کھاتا بھٹکتا کیوں پھروں آقا
سلامت ہے تمہارا آستانہ یا رسول اللہ
خدائے پاک دیتا ہے تمہیں تقسیم کرنے کو
تمہارے در کا ہے ہر اک خزانہ یا رسول اللہ
تمہارے در کا کھاتے ہیں تمہارے در کا پیتے ہیں
تمہارا ہی تو ہے سب آب و دانہ یا رسول اللہ
عدو کے دل پہ ویرانی سی کر دیتا ہے یہ جا کر
ہمارا جھوم کے نعرہ لگانا یا رسول اللہ
میرا دم ٹوٹ جائے گنبدِ خضریٰ کے سائے میں
بقیعِ پاک میں مجھ کو سلانا یا رسول اللہ
تمنا ہے شہادنیا میں جب تک میں رہوں زندہ
مدینے میں رہے بس آنا جانا یا رسول اللہ
خیالی روشنی افرنگ کی برباد کرتی ہے
شہا سب اہلِ ایماں کو بچانا یا رسول اللہ
تمنا ہے دلِ مرزاؔ کی جب دنیا سے ہو رخصت
ہو اس کے لب پہ نعتوں کا ترانہ یا رسول اللہ
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.