مدحتِ نورِ مجسم کیا کریں
مدحتِ نورِ مجسم کیا کریں
خود کرے جب حق بیاں ہم کیا کریں
ہو نظر جن کی مدینے کی طرف
دیکھ کر وہ حسنِ عالم کیا کریں
ان کی چوکھٹ کے گدا ہیں خیر سے
جستجوئے قیصر و جم کیا کریں
سر ہو خم جن کا درِ سرکار پر
غیر کے آگے جبیں خم کیا کریں
دستگیری کو مرے سرکار ہیں
خوفِ عقبیٰ نار کا غم کیا کریں
ان کے ہاتھوں سے ملے بس ایک جام
آرزوئے جامِ جم ہم کیا کریں
فضلِ رب سے سب عیاں ہیں شاہ پر
حال دل سے ان کو محرم کیا کریں
زخمِ طیبہ عاشقوں کو ہے عزیز
خوش نصیب اب اس کا مرہم کیا کریں
اشک باری ان کی الفت میں رہے
آنکھ حبِ دہر میں نم کیا کریں
ہو کرم عصیاں کا آقا سلسلہ
بڑھ رہا ہے آہ ہر دم کیا کریں
ہوں وہ راضی ایسے مرزاؔ کام کر
کیا کہے جاتا ہے ہر دم کیا کریں
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.