وِردِ زباں ہے میرے وظیفہ علی علی
دلچسپ معلومات
منقبت در شان حضرت علی مرتضیٰ (نجف۔عراق)
وردِ زباں ہے میرے وظیفہ علی علی
گنجینئہ حیات ہے مولیٰ علی علی
حیدر ہے بو تراب ہے وہ رب کا شیر ہے
کہتا ہے ان کو سارا زمانہ علی علی
بابا حسن حسین کے ہیں زوجِ فاطمہ
ہیں گلشنِ نبی کا اجالا علی علی
خیبر کا جیسے باب اکھاڑا تھا آپ نے
دیجے گا ایک کفر کو جھٹکا علی علی
مرحب ہر ایک دور کا لرزاں ہے آپ سے
ہے دبدبہ وہ نام کا مولیٰ علی علی
مشکل بھی مشکلوں میں گرفتار ہوگئی
رنج و الم میں جس نے پکارا علی علی
جتنے بھی صوفیا کے ہیں ذیشان سلسلے
کہتا ہے ان کا جھوم کے شجرہ علی علی
تسکینِ قلب و جان ہے مولیٰ علی کانام
اہلِ نظر کا قبلہ و کعبہ علی علی
ذکرِ علی و دیدِ علی باالیقیں ثواب
چمکے گا میرا کہہ کے یہ نامہ علی علی
گھر آئے گا نہ کوئی کبھی خارجی مرے
دروازے پر جو نام ہے لکھا علی علی
کشتی مری بھنور میں ہے طوفان کا ہے زور
لطف و کرم کا کیجے اشارہ علی علی
نامِ علی ہے آج تو جانِ مشاعرہ
ہوتا ہے دھوم دھام سے چرچہ علی علی
الفت ہے چار یار کی مرزاؔ کے قلب میں
کہتا ہے اس کا سارا گھرانا علی علی
- کتاب : حروف نور
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.