Font by Mehr Nastaliq Web

جو بزمِ لامکاں پہنچا نبی میرا نبی میرا

مرزا جاوید بیگ

جو بزمِ لامکاں پہنچا نبی میرا نبی میرا

مرزا جاوید بیگ

MORE BYمرزا جاوید بیگ

    جو بزمِ لامکاں پہنچا نبی میرا نبی میرا

    شبِ اسریٰ کاہے دولہا نبی میرا نبی میرا

    خدا واحد ہے جیسے عبد ہے رحمان کا واحد

    ہے محبوبِ خدا یکتا نبی میرا نبی میرا

    مہ و خور انجمِ افلاک بھی جس کو کہیں اپنا

    زمیں بولی فلک بولا نبی میرا نبی میرا

    مقامِ سدرہ و عرشِ بریں زیرِ قدم جس کے

    چٹائی پر ہے وہ لیٹا نبی میرا نبی میرا

    احد سونے کا بن کر ساتھ چلتا گر رضا ہوتی

    کمی کچھ بھی نہ رکھتا تھا نبی میرا نبی میرا

    شہِ کونین ہوکر پیٹ پر پتھر رہا باندھے

    غلاموں کو عطا کرتا نبی میرا نبی میرا

    وہ جواد و کریم ایسا گداؤں کے لیے اپنے

    نہیں لب پر ہے جس کے لا نبی میرا نبی میرا

    زبانیں حشر میں سوکھی غلاموں کی رہیں کیوں کر

    ہے مالک حوضِ کوثر کا نبی میرا نبی میرا

    کِسی کی بھی نہ امت خلد پہنچے گی نہ کھولے گر

    شفاعت کا وہ دروازہ نبی میرا نبی میرا

    نوازش اپنے تو اپنے جو غیروں پر بھی فرمائے

    جہاں میں ہے کوئی ایسا نبی میرا نبی میرا

    نہ گھبراؤ گنہگارو شفاعت کے لیے دیکھو

    مبارک ہو لو وہ آیا نبی میرا نبی میرا

    درود ان پر سلام ان پر یہ جاں ان پر نچھاور ہو

    کہ جان و دل سے ہے پیارا نبی میرا نبی میرا

    مجھے وہ بھی اگر اپنا کہیں تو لطف ہے مرزاؔ

    وظیفہ ہے یہی میرا نبی میرا نبی میرا

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    بولیے