Font by Mehr Nastaliq Web

میلادِ محمد جو منانے میں لگے ہیں

مرزا جاوید بیگ

میلادِ محمد جو منانے میں لگے ہیں

مرزا جاوید بیگ

MORE BYمرزا جاوید بیگ

    میلادِ محمد جو منانے میں لگے ہیں

    ہم کو وہ بھلے لوگ زمانے میں لگے ہیں

    تہذیب و محبت کے اخوت کے ہیں خوگر

    سرکار کا جو ذکر سنانے میں لگے ہیں

    مٹ جائیں گے سب نام و نشاں ان کے جہاں سے

    سرکار کا جو ذکر مٹانے میں لگے ہیں

    ذکرِ شہِ کونین تو بڑھتا ہی رہے گا

    گھاٹے میں ہیں جو اس کو گھٹانے میں لگے ہیں

    کہتے ہیں کہ میلاد کا تم لاؤ حوالہ

    اعدائے نبی حیلے بہانے میں لگے ہیں

    نورِ شہِ بطحیٰ سے لحد ہوگی منور

    جو دیپ مسرت کے جلانے میں لگے ہیں

    دل سے جو پکارا ہے کبھی سرورِ دیں کو

    لمحے بھی نہیں آپ کے آنے میں لگے ہیں

    کیا بات ہے عشاقِ شہِ ارض و سما کی

    بے دیکھے یہ سر اپنا کٹانے میں لگے ہیں

    مرزاؔ نہ کبھی یاد کو تم ان کی بھلانا

    وہ ناز جو امت کے اٹھانے میں لگے ہیں

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    بولیے