میلادِ محمد جو منانے میں لگے ہیں
میلادِ محمد جو منانے میں لگے ہیں
ہم کو وہ بھلے لوگ زمانے میں لگے ہیں
تہذیب و محبت کے اخوت کے ہیں خوگر
سرکار کا جو ذکر سنانے میں لگے ہیں
مٹ جائیں گے سب نام و نشاں ان کے جہاں سے
سرکار کا جو ذکر مٹانے میں لگے ہیں
ذکرِ شہِ کونین تو بڑھتا ہی رہے گا
گھاٹے میں ہیں جو اس کو گھٹانے میں لگے ہیں
کہتے ہیں کہ میلاد کا تم لاؤ حوالہ
اعدائے نبی حیلے بہانے میں لگے ہیں
نورِ شہِ بطحیٰ سے لحد ہوگی منور
جو دیپ مسرت کے جلانے میں لگے ہیں
دل سے جو پکارا ہے کبھی سرورِ دیں کو
لمحے بھی نہیں آپ کے آنے میں لگے ہیں
کیا بات ہے عشاقِ شہِ ارض و سما کی
بے دیکھے یہ سر اپنا کٹانے میں لگے ہیں
مرزاؔ نہ کبھی یاد کو تم ان کی بھلانا
وہ ناز جو امت کے اٹھانے میں لگے ہیں
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.