کوئی پوچھے ہمارے دل سے رتبہ شاہِ قاتل کا
دلچسپ معلومات
نوٹ: حضرت قاتلؔ اجمیری کے چہلم کے موقع پر عیدگاہ میدان، بندر روڈ، کراچی میں ضیاؤالقادری بدایونی کی صدارت میں ایک طرحی مشاعرہ منعقد ہوا، جس کے لیے مصرعِ طرح ’’مریدوں کے لیے کعبہ ہے روضہ شاہِ قاتل کا‘‘ سیمابؔ اکبرآبادی نے اپنے زمانۂ علالت میں پیش کیا۔
کوئی پوچھے ہمارے دل سے رتبہ شاہِ قاتل کا
ہیں خود شیدائے حق عالم ہے شیدا شاہِ قاتل کا
یہاں آئیں ذرا اہلِ حقیقت دل کریں روشن
بنا ہے مطلعِ انوارِ روضہ شاہِ قاتل کا
ولایت ہو تو ایسی ہو تصرف ہو تو ایسا ہو
نظر ہر رنگ میں آیا کرشمہ شاہِ قاتل کا
اثر اعجاز کا رکھتی تھی ان کی ہر نظر گویا
دلوں کو زندہ کرتا تھا اشارہ شاہِ قاتل کا
وہ قطب الواصلیں بھی ہیں سراج السالکیں بھی ہیں
کہ اہل اللہ میں رتبہ ہے اعلیٰ شاہِ قاتل کا
تصور میں مرے دن رات صورت ان کی رہتی ہے
میں خود اپنے ہی میں پاتا ہوں جلوہ شاہِ قاتل کا
ہمیں دیر و حرم کا کشمکش سے کیا غرض واعظ
ہمارے واسطے کعبہ ہے روضہ شاہِ قاتل کا
ہوئے مغفور وہ آئے شورؔ یہ تاریخ تم لکھ دو
رہے گا حشر تک آنکھوں میں جلوہ شاہِ قاتل کا
- کتاب : Gulha-e-Aqidat (Pg. 29)
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.