تابش حسن ہو تمہیں برقِ ادا تمہیں تو ہو
تابش حسن ہو تمہیں برقِ ادا تمہیں تو ہو
شافع روز حشر ہو میری دوا تمہیں تو ہو
شانِ جمالِ حق نما حق کی رضا تمہیں تو ہو
محفلِ کائنات میں جلوہ نما تمہیں تو ہو
شمعِ ہدیٰ تمہیں تو ہو نورِ خدا تمہیں تو ہو
فرقِ حقیقت و مجاز سامنے لا سکا ہے کون
نورِ جمالِ کبریا سب کو دکھا سکا ہے کون
پردۂ رازِ معرفت ایسا اٹھا سکا ہے کون
سجدۂ عاشقاں کا رخ اور بتا سکا ہے کون
ان کی نماز کے لیے قبلہ نما تمہیں تو ہو
یاد یہ کس کی آگئی آنکھ بھی ہو گئی ہے نم
صورتِ پاک آئینہ زلف د راز خم بہ خم
میں تو کہوں گا کم نہیں حال پہ ان کے یہ کرم
حق سے لیا ہے تم نے ہی وعدہ بخشش امم
شانِ کرم تمہیں تو ہو جانِ وفا تمہیں تو ہو
جذبِ کمال عاشقی بن کے وقار آگیا
موہنؔ بادہ خوار بھی قربِ مزار آگیا
نام تمہارا کیا لیا تم کو بھی پیار آگیا
دل میں جہاں تم آگئے دل کو قرار آگیا
ندرتِؔ غم نصیب کے دکھ کی دوا تمہیں تو ہو
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.