جس کو سورج نے بھی دیکھا تو بہت شرمایا
جس کو سورج نے بھی دیکھا تو بہت شرمایا
افقِ مشرقِ آدم پہ وه خورشید آیا
فرش پر بیٹھ کے بھی عرش کو جو چھو آیا
اس نے کونین کی رگ رگ میں لہو دوڑایا
اس نے دنیا کو وہ میزانِ عدالت بخشی
جس سے انصاف کا مفہوم سمجھ میں آیا
ہر دکھی دل پہ رکھا اس نے محبت بھرا ہاتھ
اس نے ہر فرد کی قسمت کی پلٹ دی کایا
صفحۂ دہر پہ وہ حرفِ محبت لکھا
جو مری عمرِ دو روزہ کا بنا سرمایا
میری جھولی میں ندامت کے سوا کچھ بھی نہیں
فخر سے پھر بھی حضورِ شہِ یثرب آیا
اس گناہ گار پر بھی ایک نظر سرورِ دیں
محسنؔ آج اپنی خطاؤں پر بہت شرمایا
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.