Font by Mehr Nastaliq Web

جمالِ روئے نبی حسن کبریا ہے علی

محسن نقوی

جمالِ روئے نبی حسن کبریا ہے علی

محسن نقوی

MORE BYمحسن نقوی

    دلچسپ معلومات

    منقبت در شان حضرت علی مرتضیٰ (نجف۔عراق)

    جمالِ روئے نبی حسن کبریا ہے علی

    خدا نہیں ہے مگر مظہر خدا ہے علی

    کچھ اس لیے بھی تو حیدر ہے شہر علم کا در

    دلوں کو علم کی خیرات بانٹتا ہے علی

    ادھر اُدھر کا سوالی نہ بن نہ عمر گنوا

    مجھے علی کی قسم دست کبریا ہے علی

    یقین شک کے لبادے میں چھپ نہیں سکتا

    کہ شافعی کے لیے ہوبہو خدا ہے علی

    صدا یہ آج بھی آتی ہے باب خیبر سے

    خدا کے دین کا مصیبت میں آسرا ہے علی

    حرم میں بت شکنی کا مظاہرہ دیکھو

    کہ ابتدا ہے محمد تو انتہا ہے علی

    خبر تھی گرم کہ معراج کا سفر ہوگا

    نبی سے پہلے فلک پر پہنچ گیا ہے علی

    خدا کے دین تیری زندگی سلامت ہے

    تری رگوں میں لہو بن کے گونجتا ہے علی

    ہزار سامری سانپوں میں گھر کے خوف کھا

    کلیم طور کی جرات ترا عصا ہے علی

    علی کے باب میں سوچیں تو جان نکلتی ہے

    شعور عقل بشر تجھ سے ماورا ہے علی

    علی سے معرفت علم کی زکوۃ چلی

    مقام علم سے دنیا میں آشنا ہے علی

    یہی صراط حقیقت یہی سراج ازل

    خدا کے شہر کا آسان راستہ ہے علی

    علی کے پہلے پہر کی ہے التماس نبی

    نبی کے پچھلے پہر کی حسیں دعا ہے علی

    بکھر کے بولتے قرآن کا سراپا ہے

    سمٹ کے نقطۂ تعظیم حرف باہے علی

    اسی کے نام کا نعرہ ہے ارتعاش وجود

    سکوت گنبد احساس کی صدا ہے علی

    علی علی سے منور گلی گلی محسنؔ

    گلی گلی میں ہمیشہ میری صدا ہے علی

    مأخذ :
    • کتاب : فراتِ فکر

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    بولیے