Font by Mehr Nastaliq Web

جب پیام رب اترا آدمی کے سینے میں

معین اثر چشتی

جب پیام رب اترا آدمی کے سینے میں

معین اثر چشتی

MORE BYمعین اثر چشتی

    جب پیام رب اترا آدمی کے سینے میں

    رنگِ بندگی آیا زیست کے قرینے میں

    دلکشی ہے راحت ہے جذبۂ محبت ہے

    لوگ دیکھ لیں جا کر کیا نہیں مدینے میں

    سوچتا ہوں انساں کے سب گناہ دھل جاتے

    دل اگر ندامت سے ڈوبتا پسینے میں

    وہ سفر کا وقفہ ہے جس کو موت کہتے ہیں

    ایک پل ہی حائل ہے مرنے اور جینے میں

    اس کو عالمِ برزخ موت بھی نہ توڑے گی

    آپ کا تصور ہے میرے آبگینے میں

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    بولیے