جب پیام رب اترا آدمی کے سینے میں
جب پیام رب اترا آدمی کے سینے میں
رنگِ بندگی آیا زیست کے قرینے میں
دلکشی ہے راحت ہے جذبۂ محبت ہے
لوگ دیکھ لیں جا کر کیا نہیں مدینے میں
سوچتا ہوں انساں کے سب گناہ دھل جاتے
دل اگر ندامت سے ڈوبتا پسینے میں
وہ سفر کا وقفہ ہے جس کو موت کہتے ہیں
ایک پل ہی حائل ہے مرنے اور جینے میں
اس کو عالمِ برزخ موت بھی نہ توڑے گی
آپ کا تصور ہے میرے آبگینے میں
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.