بیاں ہو وصف کیوں کر اس حبیب لایزالی کا
بیاں ہو وصف کیوں کر اس حبیب لایزالی کا
قدم اس راہ میں چلتا نہیں پیک خیالی کا
اگر اٹھ جائے پردہ حسنِ روئے مصطفائی سے
کریں اقرار یوسف سے حسیں خود بے جمالی کا
چمک دیکھے اگر اے جوہری دندانِ حضرت کی
مکدر نور ہو جائے ابھی سلکِ لالی کا
ذہانت کو بشر کی اک سرِ مو بھی نہیں نسبت
کہ جبریلِ امیں قائل تھا ان کے ذہن عالی کا
ثبات ان کو دیا اللہ نے ہر بات میں ایسا
قدم ہل جائے جن کے سامنے قطب شمالی کا
کمالات محمد کو کہاں تک آدمی سمجھے
کہ ہے اللہ واصِف ان کی ذاتِ با کمالی کا
بہار ہفت جنت باغچہ گلگشت کا ان کے
لقب فردوسیہ ہے نام رضواں ان کے مالی کا
ہمیں علم ان کا تبیا نالکلِ شی سے واضح ہے
خلاف اس کے نہ مانیں قول شخص لا ابالی کا
میں اپنے ہاتھ سے کحل الجواہر پھینک دوں لےکر
غبار آنکھوں میں پڑ جائے جو اس روضہ کی جالی کا
مدینہ کے درختوں کا بسیرا گر میسر ہو
نشیمن چھوڑ دے روح الامیں سدرہ کی ڈالی کا
برہمن پر جو پڑ جاتی جھلک نور محمد کی
نہ جپتا شام کی سمرن بھجن کرتا نہ کالی کا
نہیں شاعر میں نزہتؔ واصفِ ماہِ رسالت ہوں
مرے ہر شعر کا پاسنگ ہے دیواں ہلالی کا
- کتاب : Nuzhat-un-Nazireen (Pg. 43)
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.