رسول اللہ کا ثانی نہیں پایا نہیں پایا
رسول اللہ کا ثانی نہیں پایا نہیں پایا
نہ بالائے فلک پایا نہ وہ زیر زمیں پایا
خرد نے گلشن ایجاد میں پھر کر بہت ڈھونڈا
نہ ایسا سرو قد پایا نہ ایسا مہ جبیں پایا
کلام ان کے لبِ اعجاز کا اس درجہ میٹھا تھا
کہ اس کے سامنے شیریں نہ ہرگز انگبیں پایا
خدا ان کی ہدایت سے ملا ہے بت پرستوں کو
انہیں کی ذات کے صدقے سے بے دینوں نے دیں پایا
جو رعب و دبدبہ تھا سرور عالم کے بشرہ میں
نہ اس ہیبت کا کوئی صاحبِ تاج و نگیں پایا
جمالِ بے مثالی جس کا محبوبِ الٰہی ہو
نہ جبریل امیں نے بھی کوئی ایسا حسیں پایا
کوئی صورت نہیں اس شکل سے تشبیہ کے قابل
کہ جس کے نقش پا میں حسن روئے حورِ عیں پایا
خجل ان کے پسینہ کی مہک سے ہوگیا عنبر
شمیم زلف سے شرمندہ عطر مشک چیں پایا
صعوبت کے اٹھانے میں وہ یکتائے زما نہ تھے
نہ خوش عیش ان کو دیکھا اور نہ ان کو ناز نیں پایا
ملائک پر کھلا تب مرتبہ کفشِ مبارک کا
قدم کو ان کے جب بالائے چرخِ ہفت میں پایا
نبوت کی صداقت پر بڑی محکم ہے یہ حجت
کہ تھے جو دشمنِ اسلام ان کو رکنِ دیں پایا
مراتب آپ کے ثابت ہوئے اہلِ بصیرت کو
سلامی جب درِ دولت کا جبریل امیں پایا
نہایت کدو کاوش کی اسے خوشنود کرنے میں
جسے رنج و مصیبت میں ذرا اندوہ گیں پایا
ملائک نے لکھا ہے طبقۂ اعلیٰ میں نام ان کا
کہ جس کو صدق دل سے آپ کا مسند نشیں پایا
دل و جان سے خدا کا شکر کر ہر لحظہ اے نزہتؔ
کہ ہم نے تجھ کو مداح جناب شاہِ دیں پایا
- کتاب : Nuzhat-un-Nazireen (Pg. 56)
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.