Font by Mehr Nastaliq Web

رسول اللہ کا ثانی نہیں پایا نہیں پایا

معین الدین مرادآبادی

رسول اللہ کا ثانی نہیں پایا نہیں پایا

معین الدین مرادآبادی

MORE BYمعین الدین مرادآبادی

    رسول اللہ کا ثانی نہیں پایا نہیں پایا

    نہ بالائے فلک پایا نہ وہ زیر زمیں پایا

    خرد نے گلشن ایجاد میں پھر کر بہت ڈھونڈا

    نہ ایسا سرو قد پایا نہ ایسا مہ جبیں پایا

    کلام ان کے لبِ اعجاز کا اس درجہ میٹھا تھا

    کہ اس کے سامنے شیریں نہ ہرگز انگبیں پایا

    خدا ان کی ہدایت سے ملا ہے بت پرستوں کو

    انہیں کی ذات کے صدقے سے بے دینوں نے دیں پایا

    جو رعب و دبدبہ تھا سرور عالم کے بشرہ میں

    نہ اس ہیبت کا کوئی صاحبِ تاج و نگیں پایا

    جمالِ بے مثالی جس کا محبوبِ الٰہی ہو

    نہ جبریل امیں نے بھی کوئی ایسا حسیں پایا

    کوئی صورت نہیں اس شکل سے تشبیہ کے قابل

    کہ جس کے نقش پا میں حسن روئے حورِ عیں پایا

    خجل ان کے پسینہ کی مہک سے ہوگیا عنبر

    شمیم زلف سے شرمندہ عطر مشک چیں پایا

    صعوبت کے اٹھانے میں وہ یکتائے زما نہ تھے

    نہ خوش عیش ان کو دیکھا اور نہ ان کو ناز نیں پایا

    ملائک پر کھلا تب مرتبہ کفشِ مبارک کا

    قدم کو ان کے جب بالائے چرخِ ہفت میں پایا

    نبوت کی صداقت پر بڑی محکم ہے یہ حجت

    کہ تھے جو دشمنِ اسلام ان کو رکنِ دیں پایا

    مراتب آپ کے ثابت ہوئے اہلِ بصیرت کو

    سلامی جب درِ دولت کا جبریل امیں پایا

    نہایت کدو کاوش کی اسے خوشنود کرنے میں

    جسے رنج و مصیبت میں ذرا اندوہ گیں پایا

    ملائک نے لکھا ہے طبقۂ اعلیٰ میں نام ان کا

    کہ جس کو صدق دل سے آپ کا مسند نشیں پایا

    دل و جان سے خدا کا شکر کر ہر لحظہ اے نزہتؔ

    کہ ہم نے تجھ کو مداح جناب شاہِ دیں پایا

    مأخذ :
    • کتاب : Nuzhat-un-Nazireen (Pg. 56)

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    بولیے