دل اگر محوِ جمال گل رخاں ہو جائے گا
دل اگر محوِ جمال گل رخاں ہو جائے گا
گلشنِ جاں جلد پامالِ خزاں ہو جائے گا
جلوہ فرما وہ مہ تاباں جہاں ہو جائے گا
دامنِ نظارہ آنکھوں میں کتاں ہو جائے گا
جلوہ فرما شاہدِ یکتا جہاں ہو جائے گا
معرفت کی آنکھ حیرت کا مکاں ہو جائے گا
خوبرویانِ جہاں کا یہ تپاکِ ظاہری
چار دن کے پاس رہنے میں عیاں ہو جائے گا
مشترک اوصاف جاناں فہم سے جب دور ہیں
وصف ذات خاص پھر کس سے بیاں ہو جائے گا
آپ میں جب تک ہے تو اس کا نشاں ملتا نہیں
ترک ہستی خود نشانِ بے نشاں ہو جائے گا
آج جس کو قافلہ سالار ہونے پر ہے ناز
وہ کسی دن گرد راہِ کارواں ہو جائے گا
اپنے کشتہ کو اگر قم کہہ کے زندہ کر دیا
نام قاتل کا مسیحائے زماں ہو جائے گا
گر کبھی گلشن میں ہوگی خوش خرامی یار کی
پائمالِ ناز سروِ گلستاں ہو جائے گا
دل سے جانے کی نہیں ہے آرزوئے وصل دوست
جامۂ ہستی اگر چہ دھجیاں ہو جائے گا
روح نزہتؔ کی وہیں سے جائےگی پیش نبی
وعدہ اس کی عمر کا پورا جہاں ہو جائے گا
- کتاب : Nuzhat-un-Nazireen (Pg. 58)
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.