بہار ہر دوعالم ہے گلِ رخسارِ جاناں میں
بہار ہر دوعالم ہے گلِ رخسارِ جاناں میں
وہی اک پھول لاثانی کھلا ہے باغِ امکاں میں
سوائے میوہ و گل اور کیا ہے باغِ رضواں میں
سرورِ جاں جسے کہیے وہ ہے دیدارِ جاناں میں
تصور نے ترے دل کو بنایا جنت الماویٰ
ترے جلوے بہارِ جاوداں ہیں عالمِ جاں میں
حنا سنبل کی گلدستہ بنے گلہائے جنت کا
پڑے پرتو جو گیسوئے نبی کا سنبلستاں میں
ہوا حسنِ ملیح مصطفیٰ کا شہرہ عالم میں
جمالِ یوسفی کا غلغلہ تھا مصر و کنعاں میں
گنہگارانِ امت کی لگے کشتی کنارہ پر
پکاریں المدد یا سیدی گر عین طوفاں میں
نبی کے گرمیٔ رخسار کا گر عکس پڑ جائے
بہاراں جلوہ گر ہو یک بیک فصلِ مستاں میں
رسائی ہو وہاں جن و بشر کی حوصلہ کس کا
فرشتہ بے تکلف جا نہ سکتا تھا شبستاں میں
تجلی وادیٔ ایمن کی موسیٰ کا تفاخر تھا
کہ سبحان الذی نازل ہے شانِ فخرِ انساں میں
پیمبر کو نہ جانے اور موحد ہو تو کیا حاصل
یہی تو فرق بتلایا گیا ہے کفر و ایماں میں
نبی کے عشق سے عاشق کے دل میں وہ تجلی ہے
کہ ہو سکتی نہیں زنہار جرم ماہ تاباں میں
ستارے چرخ کے ذرے زمیں کے ان سے روشن ہیں
انہیں کے نور کی تابش ہے خورشید درخشاں میں
بتا اے دستِ وحشت تجھ کو یہ واماندگی کیو ں ہے
ابھی کچھ تار باقی ہیں ہمارے جیب و داماں میں
بشر کا ہے وہ رتبہ جس کی خاطر آپ فطرت نے
کیے پیدا نخیل و بوستاں دشت بیاباں میں
بشر خاکی پر یزاد آتشی پھر ربط کیوں کر ہو
عداوت ہے ہمیشہ سے برابر جن و انساں میں
سمجھ در کار ہے نزہتؔ نبی کی رتبہ دانی کو
کہ آ سکتی نہیں شانِ نبوت ذہن ناداں میں
- کتاب : Nuzhat-un-Nazireen (Pg. 96)
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.