دعاؤں کو اثر کی آرزو ہے
دعاؤں کو اثر کی آرزو ہے
درِ خیر البشر کی آرزو ہے
عطا ہو طاقتِ پرواز مجھ کو
یہ اک بے بال و پر کی آرزو ہے
کرے گوہر فشانی ان کے در پر
یہ میری چشم تر کی آرزو ہے
سجے طیبہ کی خاکِ محترم سے
یہی لے دے کے سر کی آرزو ہے
شفاعت ہو مقدر روزِ محشر
یہ ہر جن و بشر کی آرزو ہے
نہیں درکار مجھ کو مال و دولت
بس ان اک نظر کی آرزو ہے
عطا اس کو بھی مدحت کا ہنر ہو
کلیمؔ بے ہنر کی آرزو
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.