Font by Mehr Nastaliq Web

دعاؤں کو اثر کی آرزو ہے

موسیٰ نظامی کلیمؔ

دعاؤں کو اثر کی آرزو ہے

موسیٰ نظامی کلیمؔ

MORE BYموسیٰ نظامی کلیمؔ

    دعاؤں کو اثر کی آرزو ہے

    درِ خیر البشر کی آرزو ہے

    عطا ہو طاقتِ پرواز مجھ کو

    یہ اک بے بال و پر کی آرزو ہے

    کرے گوہر فشانی ان کے در پر

    یہ میری چشم تر کی آرزو ہے

    سجے طیبہ کی خاکِ محترم سے

    یہی لے دے کے سر کی آرزو ہے

    شفاعت ہو مقدر روزِ محشر

    یہ ہر جن و بشر کی آرزو ہے

    نہیں درکار مجھ کو مال و دولت

    بس ان اک نظر کی آرزو ہے

    عطا اس کو بھی مدحت کا ہنر ہو

    کلیمؔ بے ہنر کی آرزو

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    بولیے