نہ دولت نہ شہرت نہ زر چاہیے
نہ دولت نہ شہرت نہ زر چاہیے
مجھے آپ کی خاکِ در چاہیے
اڑا کر جو لے جائے طیبہ نگر
صبا کی طرح مجھ کو پر چاہیے
ترے در پہ اک بار جھکنے کے بعد
نہ اٹھے کبھی ایسا سر چاہیے
سنور جائے گی میری بگڑی ہوئی
مجھے آپ کی اک نظر چاہیے
فضائے ارم مجھ کو بھاتی نہیں
مدینے کی شام و سحر چاہیے
دمِ نزع ہو لب پہ نام آپ کا
دعاؤں میں اتنا اثر چاہیے
میں عشقِ نبی میں تڑپتا رہوں
یہی روگ بس عمر بھر چاہیے
مجھے کچھ نہیں چاہیے اے کلیمؔ
مدینے کی جانب سفر چاہیے
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.