Font by Mehr Nastaliq Web

تبشیر بہ فیضِ عام ہوئی ترویجِ سخا معراج کی شب

معظم سدا معظمؔ

تبشیر بہ فیضِ عام ہوئی ترویجِ سخا معراج کی شب

معظم سدا معظمؔ

MORE BYمعظم سدا معظمؔ

    تبشیر بہ فیضِ عام ہوئی ترویجِ سخا معراج کی شب

    تکلیم بہ رمزِ خاص ہوئی تکمیلِ عطا معراج کی شب

    ہیں ارض و سما مہکے مہکے نکھری ہے فضا معراج کی شب

    محبوب کی عرش پہ دعوت ہے اک نور اٹھا معراج کی شب

    چہرے پہ نچھاور ہونے کو سنورے ہیں نجوم و شمس و قمر

    اور زلف کو چومنے چھائی ہے رحمت کی گھٹا معراج کی شب

    در خلدِ تقرب گھوم لیا محبوب کا تلوا چوم لیا

    جبریل امیں تو نے بھی مزہ کیا خوب لیا معراج کی شب

    زمزم سے دلِ شہ دھویا گیا اور علم کو اس میں سمویا گیا

    دیدار کے بیج کو بویا گیا ماشاءاللہ معراج کی شب

    در صورتِ شاہِ حسن و خرد میں دیکھ لوں جلوۂِ ذاتِ احد

    تکرارِ کلیمی کا مقصد کیا خوب رہا معراج کی شب

    افلاک کھلے دیدار ہوا اور سارا نظامِ خلق رُکا

    اے سرورِ عالم تیرے لیے کیا کیا نہ ہوا معراج کی شب

    در قربتِ خاص حضوری ہوئی ہر عرض نبی کی پوری ہوئی

    کیا خوب ہےفضلِ خداوندی بخشش پہ تلا معراج کی شب

    موسیٰ کے وسیلے سے گرچہ امت کی نمازیں پانچ ہوئیں

    پچاس کا پھر بھی اجر رہا وعدہ یہ ہوا معراج کی شب

    کیا گنبدِ بے در کھلتا ہے کیا پل میں ایسا ہوتا ہے

    سبحان نے سیر کرائی جب مشکل نہ رہا معراج کی شب

    شانوں پہ ترے اے امی لقب رکھا گیا دستِ قدرتِ رب

    ہر شے کو تو پھر اے شاہِ عرب پہچان گیا معراج کی شب

    اس رب کو دیکھنے والے کا جس رات میں جلوہ دیکھوں گا

    وہ رات معظمؔ میرے لیے ہوگی بخدا معراج کی شب

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    بولیے