بحرِ نورِ ذات ہے کوئے حبیب
بحرِ نورِ ذات ہے کوئے حبیب
اصلِ صد تسنیم ہے جوئے حبیب
ملکِ مالک پر ہے قابوئے حبیب
کب محب سے ہے من و توئے حبیب
محوِ سیرِ دشتِ الہامی رہی
فکر ہے صد شکر آہوئے حبیب
فیض لیتی ہے قمیصِ یوسفی
واہ رے خوشبوئے گیسوئے حبیب
دیکھتے ہیں سب روئے مرضیٔ رب
دیکھتا ہے رب سوئے روئے حبیب
چاندنی جس نے شبِ امت میں کی
کربلا میں تھا وہ مہ روئے حبیب
حیدر و زہرا ہیں بحرین اور پسر
ایک مرجان ایک لؤلوئے حبیب
جس طرح ہو اجتماعِ قبلتین
متصل ہیں ایسے ابروئے حبیب
ان سے سیکھی انس نے انسانیت
خود خدا ہے واصفِ خوئے حبیب
دامِ پرسش سے رہائی کا سبب
ہے معظمؔ نعتِ گیسوئے حبیب
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.