کرم پر نہ کیوں ہو تلی ان کی چوکھٹ
کرم پر نہ کیوں ہو تلی ان کی چوکھٹ
اسی واسطے تو بنی ان کی چوکھٹ
کھلی اسمِ ستار کی مظہریت
نہیں کرتی پردہ دری ان کی چوکھٹ
تذلل فنا و جہالت ہے دنیا
ترفع بقا آگہی ان کی چوکھٹ
لقب اس لیے خیرِ امت ہے اپنا
خدا نے ہمیں چن کے دی ان کی چوکھٹ
نہ دیکھا کبھی عرض منگتوں کی سن کر
اجابت کرے ملتوی ان کی چوکھٹ
ازل سے خدا کا ہے دربار جب تو
یہ کہنا غلط ہے نہ تھی ان کی چوکھٹ
جو حرماں نصیبوں کی امید گہ ہے
وہ عالم میں مانی گئی ان کی چوکھٹ
معظمؔ بہ شمسِ شفاعت سرِ حشر
سکھاتی ہے تر دامنی ان کی چوکھٹ
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.