Font by Mehr Nastaliq Web

یہ ہے بزمِ رحمتِ دو جہاں کوئی پُر خطا ہو تو لے کے آ

معظم سدا معظمؔ

یہ ہے بزمِ رحمتِ دو جہاں کوئی پُر خطا ہو تو لے کے آ

معظم سدا معظمؔ

MORE BYمعظم سدا معظمؔ

    یہ ہے بزمِ رحمتِ دو جہاں کوئی پُر خطا ہو تو لے کے آ

    کسی غمزدہ کو تلاش کر کوئی بے نوا ہو تو لے کے آ

    وہ کہ جن کا خلق عظیم ہے یہ انہیں کا ذکرِ کریم ہے

    یہاں خوش نوا تو بہت سے ہیں کوئی خوش ادا ہو تو لے کے آ

    علمِ گداز بلند ہے انہیں چشمِ تر ہی پسند ہے

    کوئی ہنس رہا ہو تو چھوڑدے کوئی رو رہا ہو تو لے کے آ

    یہی بے خودی کا مقام ہے یہ مطافِ شوقِ تمام ہے

    یہاں سنگِ درگہِ عام ہے کوئی جبہہ سا ہو تو لے کے آ

    یہی در مدارِ امید ہے کہ عطائے کل کی نوید ہے

    یہ منالِ بختِ سعید ہے کوئی ذی شقا ہو تو لے کے آ

    یہاں ذکر پاکِ رسول ہے جبھی رحمتوں کا نزول ہے

    یہاں ہر دعا ہی قبول ہے کوئی مدعا ہو تو لے کے آ

    کبھی حمدِ خالقِ مصطفیٰ کبھی نعتِ جلوۂ کبریا

    ہے وفورِ نور سے دن چڑھا کوئی شب زدہ ہو تو لے کے آ

    یہاں نفخ روح کی ریح ہے سجی بزمِ جانِ مسیح ہے

    کسی لاعلاج مریض کو طلبِ شفا ہو تو لے کے آ

    مہ و مہر و گل ہیں فدائے رخ شب و مشک و ابر اسیرِ زلف

    شہِ دوسرا سا کوئی حسیں کہیں دوسرا ہو تو لے کے آ

    درِ مصطفیٰ ہے درِ خدا یہاں رفعِ صوت نہیں روا

    کسی شور خو کو نہ اذن دے کوئی بے صدا ہو تو لے کے آ

    یہ خلوص و عشق کا سلسلہ ہے رہِ دوام معظماؔ

    یہاں بے وفائی ہے نا روا کوئی با وفا ہو تو لے کے آ

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    بولیے