Font by Mehr Nastaliq Web

نثار چاند ہے قربان آفتاب کی دھوپ

معظم سدا معظمؔ

نثار چاند ہے قربان آفتاب کی دھوپ

معظم سدا معظمؔ

MORE BYمعظم سدا معظمؔ

    نثار چاند ہے قربان آفتاب کی دھوپ

    ہے خوشگوار عجب روئے آنجناب کی دھوپ

    اے آفتابِ فصاحت فصیح کہتے ہیں

    کھلی ہے صحنِ سخن میں ترے خطاب کی دھوپ

    حضور اپنی شفاعت کے سائے میں رکھیے

    جلائے مجھ کو نہ عصیاں کے احتساب کی دھوپ

    عطائے مہرِ رسالت تو عام ہے لیکن

    ہو جیسا صحنِ دل آتی ہے اس حساب کی دھوپ

    سبھی نجومِ نبوت ہیں مستفید اس سے

    ملی ہے سب کو مدینے کے آفتاب کی دھوپ

    جھلس گیا وہ جہنم کی آگ سے گویا

    پڑی ہے جس پہ ذرا آپ کے عتاب کی دھوپ

    رہے ثنائے محمد کا سایہ سر پہ مرے

    گزار یوں مرے مولیٰ مرے شباب کی دھوپ

    جسے بھی نورِ خدا سایۂ کرم بخشے

    پڑے گی اس پہ نہ رب کی قسم عذاب کی دھوپ

    عیاں ہیں روئے معظمؔ سے اس لیے انوار

    کہ صحن دل میں ہے عشقِ فلک مآب کی دھوپ

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    بولیے