کون اٹھائے سر تمہارا سنگِ در پانے کے بعد
کون اٹھائے سر تمہارا سنگِ در پانے کے بعد
کون جاگے سایۂ رحمت میں سو جانے کے بعد
مطلعِ قِرطاس پر حرفِ ثنا کا چاند ہے
نور لینے تارے اتریں ہوش میں آنے کے بعد
ذہن پر چھا جائے گی حسنِ معانی کی گھٹا
نعت لکھیے گیسوئے آداب مہکانے کے بعد
شافیٔ امراض ہے نعتِ مسیحائے عرب
کون ہو منت کشِ عیسیٰ دوا پانے کے بعد
جلوۂ شہ اب حواسِ خمسۂِ ظاہر اجال
یعنی روشن آنکھ بھی کر دل کو چمکانے کے بعد
بے نیازِ شہرت و القاب ہیں منگتے ترے
کیا کسی نسبت کی حاجت تیرا کہلانے کے بعد
کعب و بوصیری کے ممدوحِ معظمؔ عرض ہے
بخش دیں بَردے کو بُردہ نعت پڑھوانے کے بعد
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.