ہو جائے جن کی سمت عطائے نبی کا رخ
ہو جائے جن کی سمت عطائے نبی کا رخ
کیوں وہ سوال کے لیے دیکھیں کسی کا رخ
تشریف لائے مژدۂ جنت لیے وہ پاس
دیکھا اداس حشر میں جب امتی کا رخ
سینے سے جس نے آپ کے غم کو لگا لیا
رہتا ہے اس کی سمت ہمیشہ خوشی کا رخ
جوں دیکھتا ہے رب انہیں با شانِ قد نریٰ
کب دیکھتا ہے اور کوئی یوں کسی کا رخ
یہ سوچ کر کہ ان کی خصوصی نظر میں ہوں
شاداب کس قدر ہے مری بے بسی کا رخ
نامِ نبی کے شہد سے تحصیل فیض کو
میرے سخن کی سمت ہوا چاشنی کا رخ
عصیاں کے باوجود معظمؔ ہوں نعت گو
پر نور اس لیے ہے مری زندگی کا رخ
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.