رب نے بخشا جو تِری مدح و ثنا کا اعزاز
رب نے بخشا جو تِری مدح و ثنا کا اعزاز
مجھ کو دارین میں کافی ہے یہ آقا اعزاز
حفظ ہے تیرے قوانین کا پانا اعزاز
بھولنا تیرے فرامیں کا گمانا اعزاز
میں گدا خاک نشیں مسکنِ تذلیل کجا
اور کجا آپ شہِ عرش سراپا اعزاز
حفظِ عذرائی ترے دم کے رہین منت
تو نے بیواؤں یتیموں کو کیا با اعزاز
مغربی طرزِ خرافات میں کیا رکھا ہے
اسوۂ سرور عالم میں ہے سارا اعزاز
مدحتِ قاسمِ عظمت کی کتابت کے سبب
میرے ہاتھوں کا لیا کرتا ہے بوسہ اعزاز
چشمِ کونین میں کیوں کر نہ معظمؔ ٹھہرے
ان کے نعلین مقدس سے ہے چمٹا اعزاز
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.